ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں
کہ اک کنارا ہوں دریا کا کٹ رہا ہوں میں
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
